Thursday, 10 February 2022

ہم کہ آسماں سے تھے ذرۂ زمیں بھی نہیں

 ایک عمر ہوتی ہے 

جس میں کوئی لڑکا ہو 

یا وہ کوئی لڑکی ہو 

سوچتے ہیں دونوں ہی 

ہم ہی حرفِ اول ہیں 

اس جہان کہنہ کو 

اپنی فکرِ نو سے ہم 

اک لگن کی لَو سے ہم 

جس طرح کا چاہیں گے 

ویسا ہی بنا لیں گے 

پتھروں کو مر مر کے 

پیکروں میں ڈھالیں گے 

ایک عمر ہوتی ہے 

جس میں کوئی لڑکا ہو 

یا کوئی لڑکی ہو 

سوچتے ہیں دونوں ہی 

کتنے عزم تھے اپنے 

نذرِ خاک ہیں سارے 

بات دامنوں کی کیا 

چاک چاک دل بھی ہیں 

ہم کہ حرفِ اول تھے 

حرفِ آخریں بھی نہیں 

ہم کہ آسماں سے تھے 

ذرۂ زمیں بھی نہیں 


احمد راہی

No comments:

Post a Comment