Thursday, 10 February 2022

جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہا

 جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہا

یہ سکوں کا دور شدید ہے، کوئی بے قرار کہاں رہا

جو دعا کو ہاتھ اٹھائے بھی تو مراد یاد نہ آ سکی

کسی کارواں کا جو ذکر تھا وہ پسِ غبار کہاں رہا

یہ طلوع روز ملال ہے سو گلہ بھی کس سے کریں گے ہم

کوئی دلربا، کوئی دل شکن، کوئی دلفگار کہاں رہا

کوئی بات خواب و خیال کی جو کرو تو وقت کٹے گا اب

ہمیں موسموں کے مزاج پر کوئی اعتبار کہاں رہا

ہمیں کو بہ کو جو لیے پھری کسی نقشِ پا کی تلاش تھی

کوئی آفتاب تھا ضو فگن سرِ رہگزار کہاں رہا

مگر ایک دھن تو لگی رہی نہ یہ دل دکھا نہ گلہ ہوا

کہ نگہ کو رنگ بہار پر کوئی اختیار کہاں رہا

سرِ دشت ہی رہا تشنہ لب جسے زندگی کی تلاش تھی

جسے زندگی کی تلاش تھی لبِ جوئبار کہاں رہا


ادا جعفری

No comments:

Post a Comment