ہر لمحہ چاند چاند نکھرنا پڑا مجھے
ملنا تھا اس لیے بھی سنورنا پڑا مجھے
آمد پہ اس کی پھول کی صورت تمام رات
ایک اس کی رہگزر پہ بکھرنا پڑا مجھے
کیسی یہ زندگی نے لگائی عجیب شرط
جینے کی آرزو لیے مرنا پڑا مجھے
ویسے تو میری راہوں میں پڑتے تھے میکدے
واعظ تِری نگاہ سے ڈرنا پڑا مجھے
آئینہ ٹوٹ ٹوٹ کے مجھ میں سما گیا
اور ریزہ ریزہ ہو کے بکھرنا پڑا مجھے
آشا پربھات
No comments:
Post a Comment