Saturday, 12 June 2021

ہر لمحہ چاند چاند نکھرنا پڑا مجھے

 ہر لمحہ چاند چاند نکھرنا پڑا مجھے

ملنا تھا اس لیے بھی سنورنا پڑا مجھے

آمد پہ اس کی پھول کی صورت تمام رات

ایک اس کی رہگزر پہ بکھرنا پڑا مجھے

کیسی یہ زندگی نے لگائی عجیب شرط

جینے کی آرزو لیے مرنا پڑا مجھے

ویسے تو میری راہوں میں پڑتے تھے میکدے

واعظ تِری نگاہ سے ڈرنا پڑا مجھے

آئینہ ٹوٹ ٹوٹ کے مجھ میں سما گیا

اور ریزہ ریزہ ہو کے بکھرنا پڑا مجھے


آشا پربھات

No comments:

Post a Comment