Thursday, 4 November 2021

پیار کا ابر کھل کے برسا ہے

 پیار کا ابر کھل کے برسا ہے

ٹوٹ کر میں نے تجھ کو چاہا ہے

اس سے بڑھ کر جدائی کیا ہو گی

اب تو آنکھوں سے خون بہتا ہے

شاید اب پھر کبھی نہ مل پائیں

میں نے خوابوں میں تجھ کو دیکھا ہے

اک کرن کو ترس رہے ہیں ہم

صحن دل میں بڑا اندھیرا ہے

سب کو پھولوں کی آرزو ہے نیاز

کون پتوں سے پیار کرتا ہے


نیاز حسین لکھویرا

No comments:

Post a Comment