Thursday, 4 November 2021

کتنے دریا اس نگر سے بہہ گئے

 کتنے دریا اس نگر سے بہہ گئے

دل کے صحرا خشک پھر بھی رہ گئے

آج تک گم سم کھڑی ہیں شہر میں

جانے دیواروں سے تم کیا کہہ گئے

ایک تو ہے بات بھی سنتا نہیں

ایک ہم ہیں تیرا غم بھی سہہ گئے

تجھ سے جگ بیتی کی سب باتیں کہیں

کچھ سخن نا گفتنی بھی رہ گئے

تیری میری چاہتوں کے نام پر

لوگ کہنے کو بہت کچھ کہہ گئے


غلام جیلانی اصغر

No comments:

Post a Comment