Thursday, 4 November 2021

مہینوں بعد دفتر آ رہے ہیں

 مہینوں بعد دفتر آ رہے ہیں

ہم اک صدمے سے باہر آ رہے ہیں

تِری بانہوں سے دل اُکتا گیا ہے

اب اس جُھولے میں چکر آ رہے ہیں

سمندر کر چکا تسلیم ہم کو

خزانے خود ہی اوپر آ رہے ہیں

کہاں سویا ہے چوکیدار میرا

یہ کیسے لوگ اندر آ رہے ہیں

یہی اک دن بچا تھا دیکھنے کو

اسے بس میں بٹھا کر آ رہے ہیں


تہذیب حافی

No comments:

Post a Comment