یہ دل کی بات زمانے کو بھی بتاؤں میں
تُو میرا گیت بنے تجھ کو گنگناؤں میں
میں جانتی ہوں پرندوں سے تم کو رغبت ہے
تمہارے شہر میں کتنے شجر لگاؤں میں
تمہارا بیگ بھی تیار کر کے رکھا ہے
اکیلی ہجر کے آزار کیوں اٹھاؤں میں
سنا ہے سانپ اندھیرے میں اندھے ہوتے ہیں
ضروری ہے کہ یہاں روشنی بڑھاؤں میں
جسے بھی رہنا ہے مجھ سے خفا رہے بےشک
یہ رشتہ بوجھ ہے کیونکر اسے بچاؤں میں
زہرا قرار
زہرہ قرار
No comments:
Post a Comment