Tuesday, 16 November 2021

کرب کی لذتوں کو ڈھونڈیں گے

 کرب کی لذتوں کو ڈھونڈیں گے

ہم نئے مہ وشوں کو ڈھونڈیں گے

جو تِرے پیار کا بدل نہ بنیں

پھر انہی حسرتوں کو ڈھونڈیں گے

نیم جاں لوگ چیونٹیوں کی طرح

رزق کے مخزنوں کو ڈھونڈیں گے

شہر والے تو کب کے سو بھی گئے

کس لیے قہقہوں کو ڈھونڈیں گے

بے سکوں شخص کھوجیوں کی طرح

اپنے اپنے گھروں کو ڈھونڈیں گے

ٹہنیاں کونپلوں کو ترسیں گی

پیڑ تازہ رُتوں کو ڈھونڈیں گے

رات کے وقت کتنے سرد مزاج

جسم کی حدتوں کو ڈھونڈیں گے

اب نیاز اپنی زرد آنکھوں میں

ہم گئی رونقوں کو ڈھونڈیں گے


نیاز حسین لکھویرا

No comments:

Post a Comment