Tuesday, 3 August 2021

پھول سے ہاتھ ہیں التجا ہے مگر مر نہ جائیں کہیں

 پھول سے ہاتھ ہیں، التجا ہے مگر مر نہ جائیں کہیں تتلیاں چھوڑئیے

جسم نازک ہیں اِن کے بکھر جائیں گے بے زبانوں سے یوں مستیاں چھوڑئیے

میں محبت میں بِکتا رہا ہوں سدا، کوئی میری غرض تھی نہ مجبوریاں

آپ کے ہر اشارے پہ ناچوں گا میں، آپ ایسی غلط فہمیاں چھوڑئیے

خوبصورت یہ آنکھیں بہت ہیں مگر اِن میں کس خوف سے خواب رکھے نہیں

حوصلہ کیجئیے اور شیشے کی اِن مرتبانوں میں اب مچھلیاں چھوڑئیے

ہم فقط آپ سے ملنے آئے ہیں اور آپ کو خود سے فرصت نہیں مل رہی

سامنے بیٹھیے، منہ اِدھر کیجئے، پھر بنا لیجے گا سیلفیاں، چھوڑئیے

ہم نے شہباز نیر بھری زندگی اپنے دَم پہ گزاری ہے، سو ڈر نہیں

آپ کے دل میں جو آئے کر لیجیے یہ بچھڑ جانے کی دھمکیاں چھوڑئیے


شہباز نیر

No comments:

Post a Comment