Monday, 2 August 2021

ہم فقیروں سے مگر تھوڑی دعا بھی لیتے

 شوق سے آپ یہ انگریزی دوا بھی لیتے

ہم فقیروں سے مگر تھوڑی دعا بھی لیتے

اس لئے ہنسنے ہنسانے کی بنا لی عادت

میں جو روتا تو کئی لوگ مزا بھی لیتے

تیرے بکنے کی خبر کاش کہ پہلے ہوتی

اتنی دولت تو مِری جان کما بھی لیتے

اب کوئی بیس برس بعد یہ احساس ہوا

چاہتے ہم تو کہیں ہاتھ چھڑا بھی لیتے

اس قدر بوجھ تھا دل پر ہمیں مرنا ہی پڑا

زہر تھوڑا سا جو ہوتا تو پچا بھی لیتے


حسیب سوز

No comments:

Post a Comment