Saturday, 7 August 2021

درد آسانی سے کب پہلو بدل کر نکلا

 درد آسانی سے کب پہلو بدل کر نکلا

آنکھ کا تنکا بہت آنکھ مسل کر نکلا

تیرے مہماں کے سواگت کا کوئی پھول تھے ہم

جو بھی نکلا، ہمیں پیروں سے کچل کر نکلا

شہر کی آنکھیں بدلنا تو مِرے بس میں نہ تھا

یہ کیا میں نے کہ میں بھیس بدل کر نکلا

مِرے رستے کے مسائل تھے نوکیلے اتنے

میرے دشمن بھی مِرے پیروں سے چل کر نکلا

ڈگمگانے نہ دئیے پاؤں روا داری نے

میں شرابی تھا، مگر روز سنبھل کر نکلا


حسیب سوز

No comments:

Post a Comment