Tuesday, 12 April 2022

سنو بیٹی مجھے تم سے ضروری بات کہنی ہے

 سنو بیٹی

مجھے تم سے ضروری بات کہنی ہے

تمہیں معلوم ہے بیٹی

تمہارا باپ شاعر ہے

کہ جس نے عمر بھر الفاظ کے سکے کمائے ہیں

وہی سکے جو اس بازار میں چلتے نہیں جس میں

سبھی ایسی دکانیں ہیں

جہاں کاغذ کے ٹکڑوں کے عوض کچھ خواب بِکتے ہیں

جہاں پر بیٹیوں کے قیمتی ارمان بکتے ہیں

سنو بیٹی

تمہارے خواب اور ارمان

ان لفظوں کے سِکوں سے خریدے جا نہیں سکتے

جو میرا کل اثاثہ ہیں

سنو بیٹی

تمہارا باپ شاعر ہی نہیں، مجرم بھی ہے جِس نے

وہ سب سِکے کمائے ہیں

جو دنیا کے کسی بازار میں بھی چل نہیں سکتے

خوشی میں ڈھل نہیں سکتے

سنو بیٹی

مِرا اے کاش لفظوں سے کوئی رشتہ نہیں ہوتا

میں منڈی میں تجارت کر کے وہ کاغذ کماتا جو

ہر اک ارمان، ہر اِک خواب کی قیمت چکا سکتے

تمہارا گھر سجا سکتے

تمہیں دلہن بنا سکتے

سنو بیٹی

مجھے تم سے ضروری بات کہنی ہے


جبار واصف

No comments:

Post a Comment