Tuesday, 12 April 2022

میں مرنے سے گھبراتی ہوں

 تمہیں جی کا حال بتاتی ہوں

میں مرنے سے گھبراتی ہوں

اور یہی وجہ ہے سارا دن

دنیا سے دھیان لگاتی ہوں

کبھی اِس کو پاس بلاتی ہوں

کبھی اُس کو پاس بلاتی ہوں

لوگوں سے جھگڑنے لگتی ہوں

بچوں کو لیے ٹہلاتی ہوں

پرہیز بھی پورا کرتی ہوں

کھانا بھی کم کم کھاتی ہوں

میں مرنے سے گھبراتی ہوں

آئینہ کو اپنی صورت

اٹھتے ہی یاد دلاتی ہوں

ہونٹوں پر رنگ چھڑکتی ہوں

آنکھوں میں دیا جلاتی ہوں

کپڑوں کی چمک کو چھوتی ہوں

زیور کو بدن پہناتی ہوں

خود کر ہر دن زندہ پا کر

میں اک دم خوش ہو جاتی ہوں

میں مرنے سے گھبراتی ہوں

رشتے جو بکھرنے لگتے ہیں

روز ان کو ٹھونک بجاتی ہوں

وعدے جو مکرنے لگتے ہیں

زنجیرِ وفا پہناتی ہوں

دعوے جو اکھڑنے لگتے ہیں

انہیں دستاویز دکھاتی ہوں

اپنے جو بچھڑنے لگتے ہیں

ہر صورت انہیں مناتی ہوں

میں مرنے سے گھبراتی ہوں

مرنا تو بڑی محرومی ہے

یہ بات کسے معلوم نہیں

کوئی ایسا بھی نادان نہیں

کوئی ایسا بھی معصوم نہیں

مرنے والوں کا دنیا میں

اک ماہ بھی چرچا دھوم نہیں

ہے خوب پتہ کیا ہوتا ہے

کوئی لازم علم نجوم نہیں

سب نام مجھے منظور مگر

مرحوم نہیں مرحوم نہیں

یہ سوچ کے جان سے جاتی ہوں

میں مرنے سے گھبراتی ہوں


اسنیٰ بدر

No comments:

Post a Comment