سنا ہے جب سے وہ مقتل بحال کرتے ہیں
قلندروں کی طرح ہم دھمال کرتے ہیں
دلوں میں ڈوبی سحر کو بحال کرتے ہیں
چلو کہ پیدا اذانِ بلال کرتے ہیں
وہاں طبیب ہوئے، اندمال کرتے ہیں
یہاں مریض سبھی انتقال کرتے ہیں
تڑپ سنی مِری دنیا نے تو اک اک سے کہا
"ارے غلام ہے، ہم دیکھ بھال کرتے ہیں"
کلیجہ چیر کے رکھ دوں نہ پہلے قدموں میں
میں جانتا ہوں کہ وہ کیسا حال کرتے ہیں
گِرا کے پردہ چھپاتے ہیں جو رقیب کو وہ
خبر ہمیں بھی ہے کیا کیا کمال کرتے ہیں
چُھری وہ پھیر کے کہتے ہیں میری گردن پر
"یوں عید ہوتی ہے، ایسے حلال کرتے ہیں"
نظر نہ پھیرو، یہاں دیکھو، مُدعا سمجھو
مٙرے نہیں ہیں ابھی، عرضِ حال کرتے ہیں
پلٹ کے پڑتی ہے برقِ تجلی تُربت پر
خدا سے خلق پہ جب ہم سوال کرتے ہیں
یہ دیکھیو کہ روانی نہ لہجے میں آوے
سخنوروں کو وہ پہلے نِڈھال کرتے ہیں
فلک پہ آئی ہے ایسے کہ ٹالے سے نہ ٹلے
زمین والے غضب کا وبال کرتے ہیں
اچھل اچھل کے مِرے سینے سے نکلتا ہے دل
کچل کچل کے اسے پائمال کرتے ہیں
تم ہی کہو کہ غزل کیسے پوری ہو حمزہ
ہر ایک مصرعے پہ وہ سُرخ گال کرتے ہیں
حمزہ عمران
No comments:
Post a Comment