Tuesday, 13 October 2020

تمہیں غموں کا سمجھنا اگر نہ آئے گا

 تمہیں غموں کا سمجھنا اگر نہ آئے گا

تو میری آنکھ میں آنسو نظر نہ آئے گا

یہ زندگی کا مسافر یہ بے وفا لمحہ

چلا گیا تو کبھی لوٹ کر نہ آئے گا

بنیں گے اونچے مکانوں میں بیٹھ کر نقشے

تو اپنے حصے میں مٹی کا گھر نہ آئے گا

منا رہے ہیں بہت دن سے جشن تشنہ لبی

ہمیں پتا تھا یہ بادل ادھر نہ آئے گا

لگے گی آگ تو سمت سفر نہ دیکھے گی

مکان شہر میں کوئی نظر نہ آئے گا

وسیم اپنے اندھیروں کا خود علاج کرو

کوئی چراغ جلانے ادھر نہ آئے گا


وسیم بریلوی

No comments:

Post a Comment