Tuesday, 13 October 2020

اندر کا زہر چوم لیا دھل کے آ گئے

 اندر کا زہر چوم لیا، دُھل کے آ گئے

کتنے شریف لوگ تھے سب کھل کے آ گئے

سورج سے جنگ جیتنے نکلے تھے بے وقوف

سارے سپاہی موم کے تھے گھل کے آ گئے

مسجد میں دور دور کوئی دوسرا نہ تھا

ہم آج اپنے آپ سے مل جل کے آ گئے

نیندوں سے جنگ ہوتی رہے گی تمام عمر

آنکھوں میں بند خواب اگر کھل کے آ گئے

سورج نے اپنی شکل بھی دیکھی تھی پہلی بار

آئینے کو مزے بھی تقابل کے آ گئے

انجانے سائے پھرنے لگے ہیں ادھر ادھر

موسم ہمارے شہر میں کابل کے آ گئے


راحت اندوری

No comments:

Post a Comment