Tuesday, 13 October 2020

لگ رہا ہے کہ محبت مجھے لے ڈوبے گی

 تجھ کو پانے کی یہ حسرت مجھے لے ڈوبے گی

لگ رہا ہے کہ محبت مجھے لے ڈوبے گی

حالت عشق میں ہوں اور یہ حالت ہے کہ اب

ایک لمحے کی بھی فرصت مجھے لے ڈوبے گی

اب میں سمجھا ہوں کہ یہ درد محبت کیا ہے

یہ تِرے پیار کی شدت مجھے لے ڈوبے گی

میری بے تابی دل چین نہ لینے دے گی

تیری خاموش طبیعت مجھے لے ڈوبے گی

تیری آنکھوں کے سمندر میں خیالوں کی طرح

ڈوب جانے کی یہ عادت مجھے لے ڈوبے گی

ڈوبتی نبض کہیں کا نہیں چھوڑے گی مجھے

درد لے ڈوبے گا وحشت مجھے لے ڈوبے گی

تیری آنکھوں کا یہ جادو کہیں لے جائے گا

یہ تِری سادہ سی صورت مجھے لے ڈوبے گی

تیرے اشکوں سے کلیجہ مِرا کٹ جائے گا

میری حساس طبیعت مجھے لے ڈوبے گی

ہر قدم پر میں تِرا بوجھ اٹھاؤں کیسے

زندگی تیری ضرورت مجھے لے ڈوبے گی


جاوید صبا

No comments:

Post a Comment