یہ اور بات افادے میں بھی خسارا ہوا
ہم اپنے آپ سے بچھڑے وہ تب ہمارا ہوا
یہیں کہیں میں کسی جسم کو پہنتا ہوا
یہیں کہیں ہے کوئی پیرہن اتارا ہوا
کسی بھی داد کا طالب نہیں رہا ہے کبھی
ہمارا عکس تِرے آئینے پہ وارا ہوا
لہو بہا تھا میاں! آنکھ سے بچھڑتے ہوئے
وہ کوئی اشک نہیں تھا کہ جو ستارا ہوا
وہ تیرگی تھی کہ تو بھی سیاہ پوش لگا
چراغ میں نے جلایا تو کچھ گزارا ہوا
تِرے لبوں سے جبیں ہے مِری چمکتی ہوئی
مِری نظر نے تِرا حسن ہے نکھارا ہوا
وہ ساتھ ہو تو اسد ہر جگہ بہشت مثال
نہیں یہ بحث کہ لاہور یا بُخارا ہوا
خاور اسد
No comments:
Post a Comment