Tuesday, 13 October 2020

یہ اور بات افادے میں بھی خسارہ ہوا

 یہ اور بات افادے میں بھی خسارا ہوا

ہم اپنے آپ سے بچھڑے وہ تب ہمارا ہوا

یہیں کہیں میں کسی جسم کو پہنتا ہوا

یہیں کہیں ہے کوئی پیرہن اتارا ہوا

کسی بھی داد کا طالب نہیں رہا ہے کبھی

ہمارا عکس تِرے آئینے پہ وارا ہوا

لہو بہا تھا میاں! آنکھ سے بچھڑتے ہوئے

وہ کوئی اشک نہیں تھا کہ جو ستارا ہوا

وہ تیرگی تھی کہ تو بھی سیاہ پوش لگا

چراغ میں نے جلایا تو کچھ گزارا ہوا

تِرے لبوں سے جبیں ہے مِری چمکتی ہوئی

مِری نظر نے تِرا حسن ہے نکھارا ہوا

وہ ساتھ ہو تو اسد ہر جگہ بہشت مثال

نہیں یہ بحث کہ لاہور یا بُخارا ہوا


خاور اسد

No comments:

Post a Comment