چاند روشن ہے تو بس شب کی اذیت تک ہے
جانتا ہوں کہ ترا ساتھ ضرورت تک ہے
ایک کردار کہانی کے لیے میں بھی ہوں
اور صحرا بھی مری آخری ہجرت تک ہے
تُو نہیں ہوتا اگر، کس نے یہاں رہنا تھا
دوست یہ گھر بھی فقط تیری سکونت تک ہے
انتہا کوئی تو ہو تیری طرف سے جاناں
منتظر تیرا کوئی شخص قیامت تک ہے
اپنی تنہائی سے پوچھوں گا اگر پوچھ سکا
کیا یہ سچ ہے کہ ہر اک دوست سہولت تک ہے
مر گئے لوگ یہاں سارے مگر اب بھی ندیم
کوئی زندہ ہے تو بس اس کی محبت تک ہے
ندیم بھابھہ
No comments:
Post a Comment