Tuesday, 13 October 2020

چاند روشن ہے تو بس شب کی اذیت تک ہے

 چاند روشن ہے تو بس شب کی اذیت تک ہے

جانتا ہوں کہ ترا ساتھ ضرورت تک ہے

ایک کردار کہانی کے لیے میں بھی ہوں

اور صحرا بھی مری آخری ہجرت تک ہے

تُو نہیں ہوتا اگر، کس نے یہاں رہنا تھا

دوست یہ گھر بھی فقط تیری سکونت تک ہے

انتہا کوئی تو ہو تیری طرف سے جاناں

منتظر تیرا کوئی شخص قیامت تک ہے

اپنی تنہائی سے پوچھوں گا اگر پوچھ سکا

کیا یہ سچ ہے کہ ہر اک دوست سہولت تک ہے

مر گئے لوگ یہاں سارے مگر اب بھی ندیم

کوئی زندہ ہے تو بس اس کی محبت تک ہے


ندیم بھابھہ

No comments:

Post a Comment