Tuesday, 13 October 2020

ہٹ گئے چشم تصور سے گماں کے پردے

 ہٹ گئے چشمِ تصور سے گماں کے پردے

آکے تصویر میں اب رنگِ تعلق بھر دے

اس سے ملنا تو اسے عید مبارک کہنا

یہ بھی کہنا کہ مِری عید مبارک کر دے

جانے رعنائی مجھے رنگ دکھائے کیسا

جانے بینائی مِری آنکھ کو کیا منظر دے

یہ سمندر کا علاقہ ہے سو مرضی اس کی

جس پہ موتی کی عنایت ہو جسے پتھر دے

کب تلک میں تِری سوچوں کے تسلسل میں رہوں

اب مجھے چاک پہ رکھ اور کوئی پیکر دے

اے محبت تِری سختی نہیں جھیلی جاتی

کچھ رعایت تو مجھے ٹوٹے ہوئے دل پر دے

سب زر و مال کے شیدائی نظر آتے ہیں

کون دنیا کو رعونت سے بھری ٹھوکر دے

یہ بھی ممکن ہے میں آزار بدل لوں آزر

یہ بھی ممکن ہے محبت مجھے پاگل کر دے


دلاور علی آزر

No comments:

Post a Comment