Tuesday, 13 October 2020

سارا آنگن خوشبو سے بھر جاتا ہے

 سارا آنگن خوشبو سے بھر جاتا ہے

رات گئے جب کوئی دریچہ کھلتا ہے

خواب کے جھونکے آنکھوں سے ٹکراتے ہیں

نفس نفس اک شعلہ سا لہراتا ہے

ہاتھ دعاؤں سے خالی ہو جاتے ہیں

آنکھوں میں سناٹا سا بھر جاتا ہے

سرخ گلاب، چنبیلی اور تِری خوشبو

دھیان میں ایک انوکھے گھر کا نقشہ ہے

پیڑوں کی شاخوں میں چڑیا کھو جائے

ہرے بھرے موسم کا نشہ ایسا ہے

پورے چاند کا جادو اس کی آنکھوں میں

آدھی رات کا دِیا ہوا سے کہتا ہے

خاور! اس کے لہجے کی سرگوشی بھی

برف کو جیسے کوئی آگ دکھاتا ہے


ایوب خاور

No comments:

Post a Comment