یہی بزم عیش ہو گی یہی دور جام ہو گا
مگر آج کا تصور یہاں کل حرام ہو گا
میں کچھ اس طرح جیا ہوں کہ یقین ہو گیا ہے
مِرے بعد زندگی کا بڑا احترام ہو گا
مِری زیست اک جنازہ ہے جو راہ وقت میں ہے
جو تھکیں گے دن کے کاندھے تو سپردِ شام ہو گا
یہی حادثات غم ہیں تو یہ ڈر ہے جینے والو
کوئی دن میں زندگی کا کوئی اور نام ہو گا
وسیم بریلوی
No comments:
Post a Comment