Saturday, 10 October 2020

شجر ہیں اب ثمر آثار میرے

 شجر ہیں اب ثمر آثار میرے

چلے آتے ہیں دعویدار میرے 

مہاجر ہیں نہ اب انصار میرے 

مخالف ہیں بہت اس بار میرے 

یہاں اک بوند کا محتاج ہوں میں 

سمندر ہیں سمندر پار میرے 

ابھی مُردوں میں روحیں پھونک ڈالیں 

اگر چاہیں تو یہ بیمار میرے 

ہوائیں اوڑھ کر سویا تھا دشمن 

گئے بے کار سارے وار میرے 

میں آ کر دشمنوں میں بس گیا ہوں 

یہاں ہمدرد ہیں دو چار میرے 

ہنسی میں ٹال دینا تھا مجھے بھی 

خفا کیوں ہو گئے سرکار میرے 

تصور میں نہ جانے کون آیا 

مہک اٹھے در و دیوار میرے 

تمہارا نام دنیا جانتی ہے 

بہت رسوا ہیں اب اشعار میرے 

بھنور میں رک گئی ہے ناؤ میری 

کنارے رہ گئے اس پار میرے 

میں خود اپنی حفاظت کر رہا ہوں 

ابھی سوئے ہیں پہرے دار میرے


راحت اندوری

No comments:

Post a Comment