Sunday, 3 April 2022

تمہاری راہ میں مٹی کے گھر نہیں آتے

 تمہاری راہ میں مٹی کے گھر نہیں آتے

اسی لیے تو تمہیں ہم نظر نہیں آتے

محبتوں کے دنوں کی یہی خرابی ہے

یہ روٹھ جائیں تو پھر لوٹ کر نہیں آتے

جنہیں سلیقہ ہے تہذیب غم سمجھنے کا

انہیں کے رونے میں آنسو نظر نہیں آتے

خوشی کی آنکھ میں آنسو کی بھی جگہ رکھنا

برے زمانے کبھی پوچھ کر نہیں آتے

بساط عشق پہ بڑھنا کسے نہیں آتا

یہ اور بات کہ بچنے کے گھر نہیں آتے

وسیم! ذہن بناتے ہیں تو وہی اخبار

جو لے کے ایک بھی اچھی خبر نہیں آتے


وسیم بریلوی

No comments:

Post a Comment