Sunday, 3 April 2022

سوچ لینا غم و آلام بہت آتے ہیں

 سوچ لینا، غم و آلام بہت آتے ہیں

سر پہ اس راہ میں الزام بہت آتے ہیں

جب ضرورت تھی، سفر میں کوئی ساتھی نہ ملا

پا شکستہ ہوں تو پیغام بہت آتے ہیں

دن تو اس شہر کی رونق میں گزر جاتا ہے

یاد کچھ لوگ سرِ شام بہت یاد آتے ہیں

فاصلے اتنے نہیں یوں تو دلوں میں لیکن

اپنے مابین در و بام بہت آتے ہیں

گنتے رہتے ہیں کُھلی چھت پہ ستارے ہم بھی

ان دنوں وہ بھی سرِ بام بہت آتے ہیں

عین ممکن ہے تمہیں میری ضرورت پڑ جائے

کھوٹے سکے بھی کبھی کام بہت آتے ہیں ​


اعتبار ساجد

No comments:

Post a Comment