Sunday, 3 April 2022

ہیں وصل میں شوخی سے پابند حیا آنکھیں

 ہیں وصل میں شوخی سے پابند حیا آنکھیں

اللہ رے، ظالم کی مظلوم نما آنکھیں

آفت میں پھنسائیں گی دیوانہ بنائیں گی

وہ غالیہ سا زلفیں وہ ہوش ربا آنکھیں

کیا جانیے کیا کرتا، کیا دیکھتا، کیا کہتا

زاہد کو بھی میری سی دیتا جو خدا آنکھیں

رحم ان کو نہ آیا تھا تو شرم ہی آ جاتی

بیداد کے شکوے پر جھکتیں تو ذرا آنکھیں

تم جان کو کھو بیٹھو یا آنکھوں کو رو بیٹھو

بیخود! نہ ملائیں گے وہ تم سے ذرا آنکھیں 


بیخود بدایونی

No comments:

Post a Comment