دشمن جاں ہے مگر جان سے پیارا بھی ہے
ایسا اس دنیا میں اک شخص ہمارا بھی ہے
جاگتی آنکھوں نے دیکھے ہیں تِرے خواب اے جاں
اور نیندوں میں تیرا نام پکارا بھی ہے
وہ برا وقت کہ جب ساتھ نہ ہو سایہ بھی
بارہا ہم نے اسے ہنس کے گزارا بھی ہے
جس نے منجدھار میں چھوڑا اسے معلوم نہیں
ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا بھی ہے
ہم نے ہر جبر تِرا ہنس کے سر آنکھوں پہ لیا
زندگی تجھ پہ یہ احسان ہمارا بھی ہے
مت لٹا دینا زمانے پہ ہی ساری خیرات
منتظر ہاتھ میں کشکول ہمارا بھی ہے
نام سن کر میرا اس لب پہ تبسم ہے ضیا
اور پلکوں پہ اتر آیا ستارہ بھی ہے
ضیا ضمیر
No comments:
Post a Comment