Friday, 8 January 2021

دشمن جاں ہے مگر جان سے پیارا بھی ہے

 دشمن جاں ہے مگر جان سے پیارا بھی ہے

ایسا اس دنیا میں اک شخص ہمارا بھی ہے

جاگتی آنکھوں نے دیکھے ہیں تِرے خواب اے جاں

اور نیندوں میں تیرا نام پکارا بھی ہے

وہ برا وقت کہ جب ساتھ نہ ہو سایہ بھی

بارہا ہم نے اسے ہنس کے گزارا بھی ہے

جس نے منجدھار میں چھوڑا اسے معلوم نہیں

ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا بھی ہے

ہم نے ہر جبر تِرا ہنس کے سر آنکھوں پہ لیا

زندگی تجھ پہ یہ احسان ہمارا بھی ہے

مت لٹا دینا زمانے پہ ہی ساری خیرات

منتظر ہاتھ میں کشکول ہمارا بھی ہے

نام سن کر میرا اس لب پہ تبسم ہے ضیا

اور پلکوں پہ اتر آیا ستارہ بھی ہے


ضیا ضمیر

No comments:

Post a Comment