Friday, 8 January 2021

ذہن زندہ ہے مگر اپنے سوالات کے ساتھ

 ذہن زندہ ہے مگر اپنے سوالات کے ساتھ

کتنے الجھاؤ ہیں زنجیر روایات کے ساتھ

کون دیکھے گا یہاں دن کے اجالوں کا ستم

یہ ستارے تو چلے جائیں گے سب رات کے ساتھ

جانے کس موڑ پہ منزل کا پتہ بھول گئے

ہم کہ چلتے ہی رہے گردش حالات کے ساتھ

وقت کرتا ہے بھلا کس سے یہاں حسن سلوک

وہ بھی اس دور میں قانون مکافات کے ساتھ

وہ تو خنجر تھا گلے جس نے لگایا ہم کو

ورنہ پیش آتا ہے اب کون مدارات کے ساتھ

حادثے ہیں تو انہیں پیش بھی آنا ہے ضرور

وہ بھی اس شوخ سے تقریب ملاقات کے ساتھ

کون سنتا ہے یہاں دل کی کہانی تنویر

وہ بھی خوشبوؤں کے موہوم اشارات کے ساتھ


تنویر احمد علوی

No comments:

Post a Comment