بعد اس کے نہ مسکرایا چاند
یوں گگن پر ہوا بے مایہ چاند
چاندنی شہرِ جاں تلک پھیلی
دشتِ دل میں جو میں نے پایا چاند
کہکشاں میری خاک سے روشن
میری مٹی سے جگمگایا چاند
زخم اپنوں نے اس کو بخشے ہیں
کچھ ستاروں کا ہے ستایا چاند
شمع مصروفیت کی گُل کر کے
ہم نے اک یاد کا جلایا چاند
اک ستارہ سخن کی غزلیں تو
مصرعہ در مصرعہ گنگنایا چاند
دردِ فرقت سے روتی گلیوں میں
کالے کپڑے پہن کر آیا چاند
لوگ وہ کاش قدر کرتے جنہیں
مل گیا تھا بنا بنایا چاند
اپنا عنبر چراغ کافی ہے
کیا کروں میں بھلا پرایا چاند
نادیہ عنبر لودھی
No comments:
Post a Comment