Friday, 8 January 2021

ممکن ہے کہ مہتاب پیالے سے نکل آئے

 ممکن ہے کہ مہتاب پیالے سے نکل آئے

ہم لوگ تِرے عشق کے ہالے سے نکل آئے

کام آیا نہ جز کوئی جنوں عشق میں ہم کو

ہر دشت میں کچھ اپنے حوالے سے نکل آئے

امکان کی بنیاد پر تعمیر گماں کر

اک شہر اسی دھند کے جالے سے نکل آئے

اک عمر تو حیران رہے گردشِ پا سے

پھر ایک ذرا سنبھلے سنبھالے سے نکل آئے

اس عشق کی تقویم میں ہر کام بڑا کام

ہر جز میں اسی کُل کے حوالے سے نکل آئے


فہیم شناس کاظمی

No comments:

Post a Comment