Friday, 8 January 2021

ہر شام کہتے ہو کہ کل شام ملیں گے

 ہر شام کہتے ہو کہ کل شام ملیں گے

آتی نہیں وہ شام، جس شام ملیں گے

اچھا نہیں لگتا مجھے شاموں کا بدلنا

کل شام بھی کہتے تھے کہ کل شام ملیں گے

آتی ہے جو ملنے کی گھڑی کرتے ہو بہانے

ڈرتے ہو، ڈراتے ہو، کہ الزام ملیں گے

یہ راہِ محبت ہے یہاں چلنا نہیں آساں

اس راہ میں تم جس سے ملو بدنام ملیں گے

دل لے کے وہ میرا آرام سے بولے

بس خواب کی صورت تمہیں دام ملیں گے

امید ہے وہ دن بھی کبھی آئیں گے سن لو

ہم تم سے ملیں گے اور سرِ عام ملیں گے


کلیم عاجز

No comments:

Post a Comment