صدائے حق
ہوش کیا حواس کیا
زندگی کے پاس کیا
یہ نشیب اور فراز
ہے نہیں اداس کیا
کوئی کیا حبیب ہے
آج کے نظام کا
فرق اہتمام کا
ہر قدم ہے آبلہ
راج ہے امام کا
اور یہی نصیب ہے
اٹھ کھڑے ہوتے کہیں
لامکاں کے یہ مکیں
ہم مفر ہیں چاہتے
جب تلک نہ ہوں قریں
سحرِ نو قریب ہے
ظلم تیرے ہیں حسیں
کانٹوں سے بھی مزیں
پائے کوفتن میں بھی
یہ گدا ہیں شہ نشیں
گو لباسِ زیب ہے
یاور حبیب ڈار
No comments:
Post a Comment