Thursday, 18 November 2021

جاننا چاہو اگر کیا ہے مزہ شمشیر میں

 جاننا چاہو اگر کیا ہے مزہ شمشیر میں

آ کے تم بندھ جاؤ پیارے عقد کی زنجیر میں

بوم کے سر پر ہُما کا سایہ دیکھا خواب میں

دیکھیۓ نکلے ہے کیا اس خواب کی تعبیر میں

ہوش کی باتیں بلا سے ہوں نہ ہوں لیکن حضور

جوش ہوتا ہے غضب کا آپ کی تقریر میں

بھائی چارے کو بڑھانے لے کے نکلے رام رتھ

کیا کہے دنیا اسے ڈالے نمک جو کھیر میں

بن رہی ہیں لیڈروں کی کوٹھیوں پر کوٹھیاں

ذہن تعمیری ہے دلچسپی بھی ہے تعمیر میں

خوف کی تلوار سر پر بے یقینی کی فضا

ایسا لگتا ہے کہ ہم جیتے ہیں عہدِ میر میں


ظفر کمالی

No comments:

Post a Comment