Thursday, 18 November 2021

ملے ہیں درد ہی مجھ کو محبتوں کے عوض

 ملے ہیں درد ہی مجھ کو محبتوں کے عوض

صلے میں ہاتھ کٹے ہیں مشقتوں کے عوض

خموش رہ کے بھی میں گفتگو کروں ان سے

نگاہ وہ مِری پڑھ لیں سماعتوں کے عوض

گھروں میں شمع کی صورت وہ روشنی کر کے

پگھل رہا ہے ہر اک پل تمازتوں کے عوض

نہ پوچھو باپ سے اپنے کبھی شب ہجرت

ملے گا کیا تمہیں ان کی وصیتوں کے عوض

پلٹ کے ہم نے بھی اک بار پھر نہیں دیکھا

فلک جو بیچ دئیے ہم نے کل چھتوں کے عوض

اے کاش میرا بھی ہمدرد ہو کوئی شارب

مجھے رہائی دلائے ضمانتوں کے عوض


شارب مورانوی

No comments:

Post a Comment