قبائے روح سے ریشم ادھیڑتی گئی ہیں
یہ کیا ہوائیں گزرتی ہوئی ابھی گئی ہیں
رچا ہوا ہے عجب انجماد سانسوں میں
عجیب ساعتیں ہم پر حنوط کی گئی ہیں
لگا تھا دل پہ بصیرت کے پھول کاڑھیں گی
جو دستکاریاں پلکیں ہماری سی گئی ہیں
شتاء و صیف، ربیع و خریف چہ معنی
درونِ خاک وبائیں جہاں رکھی گئی ہیں
سماعتوں کے مساکن ہنوز ویراں ہیں
اذانیں معبدِ بے در میں پھر سے دی گئی ہیں
بصد فشار شرائین پھٹ نہ جائیں کہیں
وہ آیتیں سرِقرطاسِ دل لکھی گئی ہیں
یہ زخم وہ ہیں بظاہر جو دکھ رہے ہیں ندیم!
وگرنہ باتیں بہت اور بھی کہی گئی ہیں
ابھی بھی اٹھتا ہے سینے کی چمنیوں سے دھواں
الگ ہی آگ میں کچھ خواہشیں گندھی گئی ہیں
یہاں ٹھہرتا نہیں انتظار کا موسم
یہاں دریچوں سے آنکھیں اتار لی گئی ہیں
ارشد جمال صارم
No comments:
Post a Comment