Saturday, 19 March 2022

قبائے روح سے ریشم ادھیڑتی گئی ہیں

 قبائے روح سے ریشم ادھیڑتی گئی ہیں

یہ کیا ہوائیں گزرتی ہوئی ابھی گئی ہیں

رچا ہوا ہے عجب انجماد سانسوں میں

عجیب ساعتیں ہم پر حنوط کی گئی ہیں

لگا تھا دل پہ بصیرت کے پھول کاڑھیں گی

جو دستکاریاں پلکیں ہماری سی گئی ہیں

شتاء و صیف، ربیع و خریف چہ معنی

درونِ خاک وبائیں جہاں رکھی گئی ہیں

سماعتوں کے مساکن ہنوز ویراں ہیں

اذانیں معبدِ بے در میں پھر سے دی گئی ہیں

بصد فشار شرائین پھٹ نہ جائیں کہیں

وہ آیتیں سرِقرطاسِ دل لکھی گئی ہیں

یہ زخم وہ ہیں بظاہر جو دکھ رہے ہیں ندیم!

وگرنہ باتیں بہت اور بھی کہی گئی ہیں

ابھی بھی اٹھتا ہے سینے کی چمنیوں سے دھواں

الگ ہی آگ میں کچھ خواہشیں گندھی گئی ہیں

یہاں ٹھہرتا نہیں انتظار کا موسم

یہاں دریچوں سے آنکھیں اتار لی گئی ہیں


ارشد جمال صارم

No comments:

Post a Comment