برسوں میں اک مقام سے آگے نہیں بڑھے
گویا کہ در و بام سے آگے نہیں بڑھے
ان کو انا عزیز تھی، ہم کو وفا عزیز
ہم اپنے اپنے کام سے آگے نہیں بڑھے
وہ بھی ملے تھے آج ہمیں بے رخی کے ساتھ
ہم بھی دعا، سلام سے آگے نہیں بڑھے
بدلہ انا کا لیتے مگر ہم رعایتاً
بس ذوقِ انتقام سے آگے نہیں بڑھے
خود کو کہیں خدا نہ سمجھ لے وہ اس لیے
ہم پاس احترام سے آگے نہیں بڑھے
تم ہو سحر نصیب ہمیشہ سے اور ہم
بس اک ادھوری شام سے آگے نہیں بڑھے
نینوں سے میرے جب بھی تمہارے ملے ہیں نین
اک بن کہے پیام سے آگے نہیں بڑھے
ہیں بے ہنر یہ پھول ہی سارے جو عمر بھر
خوشبو کے اہتمام سے آگے نہیں بڑھے
آتے ہیں کتنے نام زباں پر مگر کبھی
یہ لب تمہارے نام سے آگے نہیں بڑھے
اس کے مہکتے لمس کا ہونا جو تھا اسیر
سو ہم بھی اپنے دام سے آگے نہیں بڑھے
اٹھے دعا کو ہاتھ ہمارے تو پھر یہ لب
کچھ بے محل کلام سے آگے نہیں بڑھے
ہم بے زبان لوگ ہیں عابد جو آج تک
لفظوں کے انتظام سے آگے نہیں بڑھے
عابد بنوی
No comments:
Post a Comment