Thursday, 7 January 2021

سنا ہے سرد موسم میں

 سنا ہے سرد موسم میں

پرانے درد پھر سے جاگ جاتے ہیں

تبھی شاید

گئی رت کے کئی ٹوٹے ہوئے سپنے

بہت سے ان کہے مصرعے، بہت سی ان کہی نظمیں

تمہاری یاد کی بارش میں بھیگے خشک پتوں سے بھرے رستے

کچھ ایسے آ لگے دل سے

کہ جیسے رُت بدلتے ہی پرندے لوٹ کر اپنے گھروں کی سمت آتے ہیں

سنا ہے سرد موسم میں، پرانے درد پھر سے جاگ جاتے ہیں


عاطف سعید

No comments:

Post a Comment