Thursday, 24 March 2022

ہیں ہمیں درد کی شدت سے نکھارے ہوئے لوگ

 ہیں ہمیں درد کی شدت سے نکھارے ہوئے لوگ

تم نے دیکھے ہیں کہاں جیت کے ہارے ہوئے لوگ

سارے ہی ہجر زدہ خواب کی تعبیر میں گم

سارے ہی خواب کی دنیا سے گزارے ہوئے لوگ

ایک ہم ہی تو نہیں دردِ شکستہ کی مثال

ایک ہم ہی تو نہیں پیار کے مارے ہوئے لوگ

یاد کے ابر میں چمکا کوئی بھٹکا جگنو 

چاند کی دید میں جاگے تو ستارے ہوئے لوگ

دل کی پتھرائی ہوئی آنکھ میں دریا چپ تھا

اور دریا کا چلن دیکھ، کنارے ہوئے لوگ

درد کی جھیل میں قصے تھے تہہِ آبِ رواں

جب سنے ہم سے زبانی تو ہمارے ہوئے لوگ 

آج کانٹوں سے بھرا لاکھ ہو دامن اپنا

تھے کبھی ہم بھی غزل پھول سے وارے ہوئے لوگ


ذکیہ غزل

No comments:

Post a Comment