Thursday, 24 March 2022

دنیا میں اک آیا تھا عبدالستار ایدھی

 میں بھی ایدھی ہوں


دنیا میں اک آیا تھا عبدالستار ایدھی

انسانیت کو دکھا گیا وہ اک راہ سیدھی

تھا تو وہ ایک بندہ ہی، پر بندہ نواز

جھیل گیا خوشی سے وہ زندگی کے نشیب و فراز

مشکل وقت میں ہم نے اس کو سب سے آگے پایا

سب لوگوں کی خدمت کی بن کر ان کی دایا

ایک اکیلا شخص تھا جس نے اپنا فرض نبھایا

ذات پات اور رنگ ونسل کے فرق کو مٹایا

غریبوں، یتیموں اور مسکینوں کا بن گیا وہ سہارہ

ایمبولینس سروس سے اپنی لگایا خدمت کا نعرہ

سب کچھ عطیہ کر کے بھی اس کو چین نہ آیا

مرتے وقت بھی اس کو محض ہمارا خیال ہی آیا

آنکھیں بھی وہ چھوڑ گیا اس دنیا میں اپنی

اس کی کہانی خدمت ہے حقیقت پر مبنی

اس کی ذات کو دیکھ کر پھر کیوں نہ میں یہ کہوں

میں بھی ایدھی ہوں، ہاں میں بھی ایدھی ہوں


اویس رشید

No comments:

Post a Comment