Tuesday, 2 March 2021

بھیگا موسم تارے گم صم سرد اکیلی رات

 بھیگا موسم، ☆تارے☆ گم صم، سرد اکیلی رات

چاند جو گزرا میں نے جھٹ سے کہہ دی دل کی بات

کجرا، گجرا، گنگن، پائل، بِرہا کے دُکھ روئیں

ہم تو جاگ کے رَین بِتائیں، ساجن چین سے سوئیں

مانگ میں تارہ، ماتھے چندا، سب زیور انمول

پر سجناں جب تم نہ ملو تو میں خالی کشکول

راہ بچھائے نین دوارے سُرمئی ہو گئی شام

غم کے سُوت سے چادر کاتی اوڑھی تیرے نام

پہلے پہلے پیار کی ساجن پہلی تھی برسات

اوڑھ کے لیٹی یاد تیری اور جاگ کے کاٹی رات


ذکیہ غزل

No comments:

Post a Comment