Tuesday, 2 March 2021

میں جب بھی یاد کی شمعیں جلا کے رکھتی ہوں

 میں جب بھی یاد کی شمعیں جلا کے رکھتی ہوں

یہ میری ضد ہے کہ آگے ہوا کے رکھتی ہوں

میں ٹوٹ سکتی ہوں لیکن میں جھک نہیں سکتی

شکست ذات میں پہلو انا کے رکھتی ہوں

وہ بادباں ہے اگر کشتیٔ محبت کا

میں بادبان سے رشتے ہوا کے رکھتی ہوں

نہیں ہے گھر میں تِری یاد کے علاوہ کچھ

تو کس کے سامنے چائے بنا کے رکھتی ہوں

تمہارے خط ہیں مہکتے گلاب کے مانند

وہ اور کھلتے ہیں جتنا چھپا کے رکھتی ہوں

جو کہنا چاہتی ہوں وہ تو کہہ نہیں پاتی

زباں پہ تذکرے آب و ہوا کے رکھتی ہوں

میں جانتی ہوں کہ آنا نہیں کسی نے قمر

مگر منڈیر پہ شمعیں جلا کے رکھتی ہوں


ریحانہ قمر

No comments:

Post a Comment