عارفانہ کلام نعتیہ کلام
اک بار مدینے کا سفر ہو تو کرم ہو
روضہ پہ پہنچ جاؤں تو پھر نعت رقم ہو
خواہش مجھے دنیا کی نہیں ہے مِرے آقاﷺ
اب جو بھی سفر ہو، سوئے بطحا و حرم ہو
منگتی ہوں تِرے در کی نہ خالی مجھے لوٹا
قائم یونہی بس میری دعاؤں کا بھرم ہو
ہونٹوں پہ ثناء، سامنے ہو گنبدِ خضرا
بارش تِری رحمت کی ہو اور صحنِ حرم ہو
شرمندہ گناہوں پہ ہوں مایوس نہیں ہوں
آقاﷺ درِ اقدس پہ نہ رُسوائی کا غم ہو
جاؤ جو غزل تم بھی کبھی شہرِ مدینہ
دامانِ طلب اشکِ ندامت سے بھی نم ہو
ذکیہ غزل
No comments:
Post a Comment