Tuesday, 7 December 2021

اک بار مدینے کا سفر ہو تو کرم ہو

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


اک بار مدینے کا سفر ہو تو کرم ہو

روضہ پہ پہنچ جاؤں تو پھر نعت رقم ہو

خواہش مجھے دنیا کی نہیں ہے مِرے آقاﷺ

اب جو بھی سفر ہو، سوئے بطحا و حرم ہو

منگتی ہوں تِرے در کی نہ خالی مجھے لوٹا

قائم یونہی بس میری دعاؤں کا بھرم ہو

ہونٹوں پہ ثناء، سامنے ہو گنبدِ خضرا

بارش تِری رحمت کی ہو اور صحنِ حرم ہو

شرمندہ گناہوں پہ ہوں مایوس نہیں ہوں

آقاﷺ درِ اقدس پہ نہ رُسوائی کا غم ہو

جاؤ جو غزل تم بھی کبھی شہرِ مدینہ

دامانِ طلب اشکِ ندامت سے بھی نم ہو


ذکیہ غزل

No comments:

Post a Comment