Wednesday, 8 December 2021

دل کے معاملات نمٹنے کی رات ہے

 دل کے معاملات نمٹنے کی رات ہے

جو کل گیا تھا اس کے پلٹنے کی رات ہے

اس کو میں اینے ساتھ رکھوں کس طرح بھلا

یہ رات اپنے آپ سے کٹنے کی رات ہے

جب نیند آ رہی ہے تو آئیں گے خواب بھی

یعنی تبرکات کے بٹنے کی رات ہے

کاغذ پہ لکھ رہا ہوں تیرا نام بار بار

ہاتھوں سے تیرے نام کو رٹنے کی رات ہے

تہہ کر کے آج رکھ دو زمین اور آسنان

میں نے سنا تھا سب کے سمٹنے کی رات ہے

آنا کہیں پہ چھوڑ کے فانی بدن یہاں

یہ رات تو حجاب کے ہٹنے کی رات ہے


فانی جودھپوری

No comments:

Post a Comment