دل کے معاملات نمٹنے کی رات ہے
جو کل گیا تھا اس کے پلٹنے کی رات ہے
اس کو میں اینے ساتھ رکھوں کس طرح بھلا
یہ رات اپنے آپ سے کٹنے کی رات ہے
جب نیند آ رہی ہے تو آئیں گے خواب بھی
یعنی تبرکات کے بٹنے کی رات ہے
کاغذ پہ لکھ رہا ہوں تیرا نام بار بار
ہاتھوں سے تیرے نام کو رٹنے کی رات ہے
تہہ کر کے آج رکھ دو زمین اور آسنان
میں نے سنا تھا سب کے سمٹنے کی رات ہے
آنا کہیں پہ چھوڑ کے فانی بدن یہاں
یہ رات تو حجاب کے ہٹنے کی رات ہے
فانی جودھپوری
No comments:
Post a Comment