Monday, 11 January 2021

دل کو میرے یہ اعتبار ہے کیا

 دل کو میرے یہ اعتبار ہے کیا؟

تیرے آنے کا انتظار ہے کیا؟

یوں اچانک کسی کے جانے سے

سارا عالم ہی سوگوار ہے کیا؟

بے سبب آج تیری یاد آئی

بے سبب دل بھی بے قرار ہے کیا؟

گھر میں پھرتی ہے چاپ یادوں کی

اور یادوں پہ اختیار ہے کیا؟

کاغذی پھول جیسے رشتے ہیں

اور رشتوں کا اعتبار ہے کیا؟

روز اک وعدہ، پھر پشیمانی

روز ملنے میں کوئی عار ہے کیا؟

میری آنکھوں کے لال ڈوروں سے

ان گلابوں کو کوئی پیار ہے کیا؟

کاش مل جاؤ تم تو پوچھیں گے

اب بھی اوروں پہ اعتبار ہے کیا؟

ہار اپنوں سے، جیت اپنوں سے

یہ کوئی جیت، کوئی ہار ہے کیا؟

اے غزل لفظ کیوں ہیں بھیگے سے

دامنَِ دل بھی اشکبار ہے کیا؟


ذکیہ غزل

No comments:

Post a Comment