Monday, 11 January 2021

جی رہا ہوں میں اداسی بھری تصویر کے ساتھ

 جی رہا ہوں میں اداسی بھری تصویر کے ساتھ

شور کرتا ہوں سیہ رات میں زنجیر کے ساتھ

سرخ پھولوں کی گھنی چھاؤں میں چپکے چپکے

مجھ سے ملتا تھا کوئی اک نئی تنویر کے ساتھ

اک تِری یاد کہ ہر سانس کے نزدیک رہی

اک تِرا درد کہ چسپاں رہا تقدیر کے ساتھ

کبھی زخموں کا بھی خندۂ گل کا موسم

ہم پہ کھلتا رہا اک درد کی تفسیر کے ساتھ

بات آپس کی ہے آپس ہی میں رہنے دیجے

ورنہ ہم سرخیاں بن جائیں گے تشہیر کے ساتھ

آپ کی میز پہ پھر ایک نیا منظر ہے

میری تصویر بھی ہے آپ کی تصویر کے ساتھ

دل کے نزدیک سر شام الم اے نیر

زخم کے چاند چمک اٹھتے ہیں تنویر کے ساتھ


اظہر نیر

No comments:

Post a Comment