بن کے ڈِمپل یوں تِرے گال میں کھو جاتا ہے
جیسے پانی کسی پنسال میں کھو جاتا ہے
گاؤں میں شہر کی تہذیب ہوئی دستک زن
دل اجڑتی ہوئی چوپال میں کھو جاتا ہے
میں ٹریفک کی کسی بھیڑ میں پھنس جاتا ہوں
سو مِرا رزق بھی ہڑتال میں کھو جاتا ہے
جب بھی بارش ہو تو ہم خانہ بدوشوں کا لطف
کسی خیمے، کسی ترپال میں کھو جاتا ہے
گاڑی جیسے ہی مُڑے دھان گلی کے اس پار
تیرا شاعر تیرے ڈڈیال میں کھو جاتا ہے
مسعود ساگر
No comments:
Post a Comment