Monday, 11 January 2021

نشے میں باندهے گئے وعدہ و پیمان کا سچ

 نشے میں باندهے گئے وعدہ و پیمان کا سچ

ٹوٹے ایقان کا سچ، دیدۂ حیران کا سچ

تهوکتے چاٹتے رہتے ہوئے انسان کا سچ

اور مسند پہ پڑے بھونکتے حیوان کا سچ

سچ ہے چپ چاپ ہوئی ذلت و رسوائی بهی

سچ ہے اس نور کا مسکان کا ہیجان کا سچ

تیری انجیل کا سچ اور تِرے قرآن کا سچ

سچ ہے اس رینگتے احساس کی خوداری بھی

سچ ہے اس بولتے ہذیان کی مکاری بهی

سچ ہے بستر کی ضرورت میں نحر ہونا بھی

سچ ہے ٹانگوں سے لپٹنا بھی امر ہونا بهی


ذوالقرنین حسنی

No comments:

Post a Comment