Saturday, 9 October 2021

ہم آپ قیامت سے گزر کیوں نہیں جاتے

 ہم آپ قیامت سے گزر کیوں نہیں جاتے

جینے کی شکایت ہے تو مر کیوں نہیں جاتے

کتراتے ہیں بل کھاتے ہیں گھبراتے ہیں کیوں لوگ

سردی ہے تو پانی میں اتر کیوں نہیں جاتے

آنکھوں میں نمک ہے تو نظر کیوں نہیں آتا

پلکوں پہ گہر ہیں تو بکھر کیوں نہیں جاتے

اخبار میں روزانہ وہی شور ہے، یعنی

اپنے سے یہ حالات سنور کیوں نہیں جاتے

یہ بات ابھی مجھ کو بھی معلوم نہیں ہے

پتھر ادھر آتے ہیں ادھر کیوں نہیں جاتے

تیری ہی طرح اب یہ ترے ہجر کے دن بھی

جاتے نظر آتے ہیں مگر کیوں نہیں جاتے

اب یاد کبھی آئے تو آئینے سے پوچھو

محبوب خزاں شام کو گھر کیوں نہیں جاتے


محبوب خزاں

No comments:

Post a Comment