Saturday, 9 October 2021

اب کے عجب سفر پہ نکلنا پڑا مجھے

 اب کے عجب سفر پہ نکلنا پڑا مجھے

راہیں کسی کے نام تھیں چلنا پڑا مجھے

تاریک شب نے سارے ستارے بجھا دیے

میں صبح کا چراغ تھا جلنا پڑا مجھے

یارانِ دشت رونقِ بازار بن گئے

سنسان راستوں پہ نکلنا پڑا مجھے

ہر اہلِ انجمن کی ضرورت تھی روشنی

میں شمعِ انجمن تھا، پگھلنا پڑا مجھے

ظالم بہت ہے شدتِ احساسِ آگہی

اکثر پرائی آگ میں جلنا پڑا مجھے

راہوں کے پیچ و خم میں بلا کے طلسم تھے

چلنا بڑا محال تھا، چلنا پڑا مجھے

آساں نہیں تھا ظلمتِ شب سے مقابلہ

سر پر جلا کے آگ پگھلنا پڑا مجھے


تابش الوری

No comments:

Post a Comment