زرد چمیلی کی خامشی
یہ کس کے قدموں کی چاپ آئی
یہ کون آیا؟
یہ بام و در اب جو خستہ جاں ہیں
یہ چونک اٹھے ہیں
یاس و حسرت سے شکل ہم سب کی تک رہے ہیں
جگر کا درد شدید سہہ کر دراڑ نیلے سے پڑ گئی ہیں
کسی کے ہاتھوں کے لمس کو یہ ترس رہے ہیں
نمی کو آنکھوں میں ڈبڈبائے صحن کے رستے عبور کر کے
اسی ستوں کے شکستہ سائے میں
سر جھکائے گزشتہ یادوں میں کھو گئی ہوں
وہی ستوں جو تھکے تھکے سے
ملول ہیں اور شگاف سے
جن کی سرخ اینٹیں
پرانے زخموں کی طرح دن رات رس رہی ہیں
کہ ہم تمہارے دکھوں سے اتنے قریب تر ہیں کہ
اب دوئی کا نہیں ہے کوئی بھی فرق باقی
وہ پلکیں خوابوں سے الجھی الجھی
وہ سرخ جوڑے میں سہمی سہمی
بسی حنا میں لرزتی بانہیں
تمہاری گردن میں تھیں حمائل
تمہیں نے جس کو کیا تھا رخصت
وہ دور جا کر ایک ایسی بستی میں بس گئی ہے
جہاں کوئی ہمزباں نہیں ہے
منڈیر پر کئی نحیف بیلیں خلا میں ہر سمت دیکھتی ہیں
وہ کیسے بولیں کہ ان کے لب پر
سکوت کی مہر سی لگی ہے
مگر دعا اک فضا میں گونجی کہ
تُو جہاں ہے وہیں کھلے تو
بلا سے دامن ہے اپنا خالی
نہیں میسر جو بوند اک بھی
صوفیہ انجم تاج
No comments:
Post a Comment